Explore

جی اے ٹی ایس 2024: پاکستان میں تمباکو کے بحران کی مبہم تصویر

اردو خلاصہ

جی اے ٹی ایس 2024 میں 2014 سے 2024 کے دوران پاکستان میں تمباکو کے استعمال میں کمی رپورٹ ہوئی ہے۔ مختلف مقامات پر سیکنڈ ہینڈ سموکنگ کی شرح بھی کم ہوئی ہے۔

اس کے باوجود پاکستان میں لاکھوں افراد اب بھی تمباکو استعمال کرتے ہیں۔ مضمون کے مطابق جاری نتائج میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ لوگ روزانہ کتنا سگریٹ پیتے ہیں، کس عمر میں سگریٹ نوشی شروع کرتے ہیں، کتنے افراد کامیابی سے سگریٹ چھوڑتے ہیں اور کون سے گروہ زیادہ متاثر ہیں۔

نوجوانوں سے متعلق معلومات خاص اہمیت رکھتی ہیں۔ گزشتہ دس سال میں پاکستان میں تمباکو کی نئی اور متبادل مصنوعات سامنے آئی ہیں، اس لیے 15 سے 24 سال کے افراد کے استعمال کے رجحانات کو سمجھنا ضروری ہے۔

مضمون میں جی اے ٹی ایس 2024 کی مکمل رپورٹ اور سروے کے اعداد و شمار عوامی سطح پر جاری کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ محققین اور پالیسی ساز بہتر حکمت عملی بنا سکیں۔

English Summary

GATS 2024 reports a reduction in tobacco consumption in Pakistan between 2014 and 2024. It also shows lower secondhand smoke exposure in several public and private places.

However, millions of people in Pakistan still use tobacco. The article says the released findings do not provide enough information about how much people smoke, when they start smoking, how many successfully quit, and which groups are most affected.

The article gives special importance to young people. Reliable information about tobacco use among people aged 15 to 24 is needed because new and alternative tobacco products have entered the Pakistani market during the last decade.

It calls for a complete GATS 2024 report and public access to the data so researchers and policymakers can better understand the situation and prepare effective tobacco control strategies.

اہم اردو نکات

  • جی اے ٹی ایس 2024 کے مطابق پاکستان میں 2014 سے 2024 کے دوران تمباکو کے استعمال میں کمی آئی ہے۔
  • تقریباً 2 کروڑ 27 لاکھ افراد اب بھی تمباکو استعمال کرتے ہیں، جن میں تقریباً 1 کروڑ 40 لاکھ سگریٹ نوش شامل ہیں۔
  • کئی مقامات پر سیکنڈ ہینڈ سموکنگ کی شرح میں کمی آئی ہے۔
  • بالغ سگریٹ نوش افراد کی سگریٹ چھوڑنے کی کوششوں میں نمایاں بہتری نہیں آئی۔
  • سگریٹ نوشی شروع کرنے کی عمر اور کامیابی سے سگریٹ چھوڑنے والے افراد کے بارے میں اہم معلومات موجود نہیں ہیں۔
  • جاری نتائج میں مختلف آبادیاتی گروہوں کے بارے میں بھی تفصیلی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔
  • 15 سے 24 سال کے افراد میں تمباکو کے استعمال کے بارے میں مزید معلومات کی ضرورت ہے۔
  • مضمون جی اے ٹی ایس 2024 کی مکمل رپورٹ اور اعداد و شمار عوامی سطح پر جاری کرنے پر زور دیتا ہے۔

English Key Points

  • GATS 2024 reports a reduction in tobacco consumption in Pakistan between 2014 and 2024.
  • About 22.7 million people still use tobacco, including around 14 million smokers.
  • Secondhand smoke exposure has declined in several places.
  • Quit attempts among adult smokers have not shown improvement.
  • Important information about smoking initiation and successful quitting is missing.
  • Detailed demographic information is also not available in the released findings.
  • More information is needed about tobacco use among people aged 15 to 24.
  • The article calls for the complete GATS 2024 report and public access to the data.

Why This Matters

Complete and clear data is important because Pakistan cannot properly understand its tobacco problem without knowing who is using tobacco, when people start, and how many are successfully quitting.

Public Health Relevance

Better information can help Pakistan identify groups at greater risk, protect young people, improve smoking cessation support, and reduce exposure to secondhand smoke.

Policy Relevance

The article supports publication of a comprehensive GATS 2024 report and public access to the data so future tobacco control policies can be based on clearer evidence.

About This Explainer

This explainer is based on the supplied Urdu internal article about GATS 2024. The complete Urdu article text is kept according to the supplied document, while the summaries and key points are written in simple and natural language for readers in Pakistan.

اردو مضامین پر واپس جائیں

مکمل اردو مضمون

گلوبل ایڈلٹ ٹوبیکو سروے (جی اے ٹی ایس) 2024نے تمباکو کے استعمال سے متعلق سوالوں کے جواب دینے کے بجائے پاکستان کے لیے مزید سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اسےمستند قومی سروے سمجھا جاتا ہے جو ملک میں تمباکو کے استعمال، دوسروں کے سگریٹ کے دھوئیں(سیکنڈ ہینڈ سموکنگ) کے شکار افراد، ترک ِتمباکونوشی کی کوششوں اور تمباکو کے استعمال سے متعلق لوگوں کے رویوں کے بارے میں معلومات فراہم کرتا ہے۔ یہ گھریلو سروے قومی صحت اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پاپولیشن سٹڈیز، ٹریننگ اینڈ ریسرچ نے عالمی ادارہ صحت کے تعاون سے منعقد کیا جس میں پاکستان بھر سے 11 ہزار167 بالغ افراد کو شامل کیا گیا۔

گلوبل ایڈلٹ ٹوبیکو سروے 2024کے مطابق پاکستان نے 2014 سے 2024 کے دوران عالمی ادارہ صحت کے فریم کنونشن برائے انسداد تمباکونوشی کے تحت اپنے اقدامات کے ذریعے تمباکو کے استعمال میں 15.7 فیصد کمی لانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔اس پیش رفت کے باوجود ملک میں 15 سال یا اس سے زیادہ عمر کی آبادی کا 16.1 فیصد اب بھی تمباکو استعمال کرتا ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق اس وقت ملک میں 2 کروڑ 27 لاکھ افراد کسی نہ کسی شکل میں تمباکو استعمال کرتے ہیں جن میں سے 1 کروڑ 40 لاکھ سگریٹ نو ش ہیں۔

سروے کے مطابق پاکستان کےجن مقامات کا جائزہ لیا گیا ،وہاں سیکنڈ ہینڈ سموکنگ کی شرح میں بھی کمی ریکارڈ ہوئی ۔ گھروں میں یہ شرح 48.3 فیصد سے کم ہو کر 28.8 فیصد، دفاتر اور دیگر کام کی جگہوں پر 69.1فیصد سے 35.9 فیصد، سرکاری عمارتوں میں 64.6 فیصد سے 40.7 فیصد، نجی عمارتوں میں 77.3 فیصد سے 54.8 فیصد، صحت کے مراکز میں 37.6 فیصد سے 24.5 فیصد، ریستورانوں میں 86 فیصد سے 55.2 فیصد، شادی ہالوں میں 65.7 فیصد سے 50.3 فیصد، پبلک ٹرانسپورٹ میں 76.2 فیصد سے 45.4 فیصد ، یونیورسٹیوں میں 44.2 سے 33.3 فیصد اور سکولوں میں 25.1 فیصد سے 11.5 فیصد رہ گئی۔

یہ خوش آئند امر ہے کہ ملک میں تمباکونوشی اور سیکنڈ ہینڈ سموکنگ کی شرح میں مجموعی طور پر کمی آئی ہے مگر سروے میں ایک پریشا ن کن رجحان کی بھی نشاندہی کی گئی ہے ۔ سروے کے مطابق خواتین میں تمباکو کے استعمال میں 1.7 فیصد اضافہ ہو اہے جب کہ 15 سال سے زیادہ عمر کی خواتین میں سے 5.9فیصد تمباکونوش ہیں۔ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران تمباکونوشی ترک کرنے کی شرح میں کوئی نمایاں بہتری نہیں آئی۔ یہ شرح 24.7 فیصد سے کچھ پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 24.1 فیصد ہو گئی ہے۔

یہ نتائج ایک جانب امید اور حوصلہ افزا پیش رفت کی عکاسی کرتے ہیں جب کہ دوسری جانب یہ تمباکونوشی کے مکمل خاتمے کےلیے کی جانے والی کوششوں کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیتےہیں۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ ان نتائج سے تمباکو نوشی کی صورتِ حال مکمل طور پر طور واضح نہیں ہوتی۔

جی اے ٹی ایس 2024 کے نتائج پر مبنی کوئی تفصیلی رپورٹ ابھی تک جاری نہیں کی گئی ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ جی اے ٹی ایس 2014 میں تمباکو کے استعمال کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں اہم معلومات سامنے آئی تھیں، مگر اس نئے سروے کے نتائج میں ان سے متعلق معلومات شامل نہیں ہیں۔ اس میں یہ بھی ذکر نہیں ہے کہ ایک سگریٹ نوش روزانہ اوسطاً کتنے سگریٹ پیتا ہے اور موجودہ بالغ سگریٹ نوش افراد نے کس عمر میں سگریٹ نوشی شروع کی ۔

2014 کے سروے میں20 سے 34 سال کی عمر کے دوران روزانہ سگریٹ نوشی کرنے والے افراد میں سے 29 فیصد کے بارے میں یہ بات سامنے آئی کہ انہوں نے 17 سال کی عمر سے پہلے روزانہ سگریٹ پینا شروع کیا۔ اسی سروے کے مطابق ان تمباکونوشوں میں سے 8.4 فیصد نے سگریٹ نوشی ترک کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ یہ معلومات اہم ہیں مگر اب یہ پرانی ہو چکی ہیں۔لہذا،آج یہ جاننا اہم اور نہایت ضروری ہے کہ آیاسگریٹ نوشی شروع کرنے کی عمر میں یا روزانہ تمباکوکا استعمال کرنے والے لوگوں میں اسے ترک کرنے کی شرح میں گزشتہ دس برس کے دوران کوئی تبدیلی آئی ہے یا نہیں ۔

جی اے ٹی ایس 2024 میں تمباکو کے استعمال میں کمی کی نشاندہی کی گئی ہے مگر اس کی وجوہات کا تعین نہیں کیا گیا ۔ یہ واضح نہیں ہے کہ کیا یہ کمی آبادی میں اضافے کے باعث سامنے آنے والے اعداد و شمار کا نتیجہ ہےیا پھر اس کی وجہ یہ ہے کہ سگریٹ نوشی ترک کرنے میں کامیاب افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے؟ 2014 کے سروے کے نتائج میں ایک اہم بات یہ معلوم ہوئی تھی کہ روزانہ تمباکونوشی کرنے والوں میں سے 8.4 فیصد نے اپنی اس عادت کو ترک کرنے میں حاصل کی ۔ آج ، مگراس بارے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔

اس سروے کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ اس میں منتخب آبادی سے متعلق اہم خصوصیات شامل نہیں کی گئیں، حالاں کہ یہ تمباکو نوشی کے رجحانات کو بہتر طور پر سمجھنے اور مختلف گروہوں میں اس کے پھیلاؤ کا جائزہ لینے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

2014 میں 18 سال کی عمر سے پہلے سگریٹ نوشی کرنے سے متعلق معلومات ایک تشویش ناک امر کی صورت میں سامنے آئی تھیں۔ اس وقت دیہی علاقوں میں 32.7 فیصد جب کہ شہری علاقوں میں 18.8 فیصد بالغ افراد نے 17 برس کی عمر سے پہلے روزانہ سگریٹ نوشی شروع کر دی تھی۔ بدقسمتی سے،جی اے ٹی ایس 2024 کے نتائج میں اس حوالے سے کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔

سگریٹ نوشی کی شرح کم کرنے کا سب سے مؤثر طریقہ یہ ہے کہ نوجوانوں کو سگریٹ نوشی شروع کرنے اور کم نقصان دہ متبادل سمیت تمباکو کی تمام مصنوعات کے استعمال سے دور رکھا جائے۔ یہ ، مگر اسی وقت ممکن ہو سکتا ہے جب کم عمر اور نوجوان سگریٹ نوشوں کی تعداد، ان کے سماجی و معاشی پس منظر اور ان کے رہائشی علاقوں کے بارے میں قابلِ اعتماد معلومات دستیاب ہوں۔

جی اے ٹی ایس 2014 میں 15 سے 24 سال کی عمر کے افراد میں سگریٹ، حقہ اور واٹر پائپ سمیت مختلف طریقوں سے تمباکو کے استعمال سے متعلق اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے۔ آج اس عمر کے افراد سے متعلق یہ صورتِ حال واضح نہیں ہے۔ اس حقیقت کو بھی پیشِ نظر رکھیں کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران پاکستان میں تمباکو کی متبادل مصنوعات متعارف ہوئی ہیں۔ لہٰذا، اس وقت 15 سے 24 سال کی عمر کے افراد سے متعلق یہ معلومات مزید اہمیت اختیار کر گئی ہیں۔

آج مارکیٹ میں پہلے سے کہیں زیادہ مختلف اقسام کی تمباکو مصنوعات دستیاب ہیں۔ اس سے ایک طرف نوجوانوں کے پاس ان میں سے انتخاب کے زیادہ مواقع میسر آ گئے ہیں جب کہ دوسری طرف ان مصنوعات سے وابستہ خطرات بھی ماضی کے مقابلے میں بڑھ گئے ہیں۔ ایسی صورتِ حال میں یہ جاننا انتہائی ضروری ہے کہ نوجوانوں کا سماجی و معاشی پس منظر کیا ہے، وہ تمباکو کی کون سی مصنوعات استعمال کرتے ہیں اور اس حوالے سے دیگر متعلقہ عوامل کیا ہیں۔ یہ معلومات نوجوانوں کو تمباکو کی مصنوعات کے استعمال سے دور رکھنے کے لیے مؤثر منصوبہ بندی اور حکمتِ عملی وضع کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔

بدقسمتی سے، جی اے ٹی ایس 2024 کے جاری کردہ نتائج سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ان کا مقصد سگریٹ نوشی اور تمباکو کے استعمال کی اصل صورتِ حال کو واضح کرنے کے بجائے اس پر پردہ ڈالنا ہے۔ ان نتائج کے بجائے اگر گزشتہ برسوں کے دوران تمباکو کے استعمال سے متعلق ایک جامع رپورٹ جاری کی جاتی تو زیادہ بہتر ہوتا۔ اس رپورٹ میں سروے میں استعمال کیے گئے انڈیکیٹر، معلومات جمع کرنے کے طریقۂ کار، مکمل سوالنامے اور سفارشات کو بھی شامل کیا جاتا تو صورتِ حال کو زیادہ واضح طور پر سمجھنے میں مدد ملتی۔

جی اے ٹی ایس 2024 پر ایک جامع رپورٹ جاری کرنے کی ضرورت ہے جس میں سروے کے طریقۂ کار، تمباکو کے استعمال، ترکِ تمباکو نوشی اور اس کے لیے اختیار کیے جانے والے طریقوں، سیکنڈہینڈ سموکنگ کے پھیلاؤ اور تمباکو کے استعمال کے معاشی اثرات کی تفصیلات شامل ہوں۔ ان کے علاوہ ،اس میں میڈیا، تمباکو مصنوعات کی تشہیر و مارکیٹنگ ، سگریٹ نوشوں اور غیر تمباکونو ش افراد کی تمباکونوشی سے متعلق معلومات، رویوں اور تصورات سمیت تمام اہم پہلوؤں کا احاطہ کیا جائے۔ یقیناً، اس رپورٹ میں سفارشات بھی شامل ہونی چاہییں۔ سروے کے اعداد و شمار بھی عوامی سطح پر دستیاب کرائے جانے چاہییں تاکہ محققین اور دیگر متعلقہ افراد ان کا آزادانہ طور پر جائزہ لے سکیں۔